پونٹاصاحب /ریہان 2؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ہماچل پردیش میں انتخابی ریلی کرتے ہوئے برسراقتدار پارٹی کی مبینہ ناکامی کا طویل تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ 9 تاریخ کو بٹن دبانے والے اپنی پسند کی نئی سرکار بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا آخری وقت آگیاہے جنہوں نے ہماچل کو لوٹا ہے۔
انہوں نے کنگرا ضلع کے فتح پور اسمبلی کے حلقے میں ر یہان میں اپنی پہلی ریلی کی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب لوگ 9 ویں تاریخ کو بٹن دبائیں تو پنڈت رام سنگھ پٹھانیا کی قربانی کو یاد رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت قائم ہونے پر ریاست کی قسمت بھی بدل جائے گی۔ وزیرا عظم نے کہا کہ ریلی میں عوام کی کثرت دیکھ کر ان کے ’آشیرواد ‘ کا یقین ہوتا ہے ۔ مودی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جن امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ان پر سابق سے ہی بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں۔مودی نے مزید کہا کہ یہ وہ ملک ہے کہ اگر آپ کوئی کام ایماندار ی کے ساتھ کر رہے ہوں اور کوئی غلطی بھی ہوجائے تو ملک اسے معاف کر دیتا ہے ؛ لیکن اگر کوئی بے ایمانی اور بدعنوانی کے ساتھ کام کرے تو پھر ملک کے عوام اسے قبول نہیں کرتے ؛ بلکہ اس کو مسترد کردیتے ہیں۔
مودی کے اس بیان سے محسوس ہورہا تھا کہ موصوف کو نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو غلط ڈھنگ سے نافذ کرنے کے تئیں غلطی کا اعتراف ہے ۔ دریں اثناء یہ بات قابل غور ہے کہ بی جے پی نے جن امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے ان امیدواروں کے دامن بھی کئی مقدمات کی وجہ سے داغدار ہیں۔ مودی نے کانگریس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کو یہ سوچنا چاہئے کہ ملک کانگریس کو چن چن کر سزا کیوں دے رہاہے۔ وہیں پونٹا صاحب کی ریلی سے خطاب کے دوران اپنی پوری تقریر میں مودی نے کانگریس کو ہی نشانہ پر رکھا حتی کہ وہ اپنی رو میں یہاں تک بول گئے کہ اب کوئی پنجہ ہماچل پردیش کے خزانہ پرڈاکہ نہیں ڈال سکتا۔
عوام کے ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ حقیقت میں نوٹ بندی اور غیر معقول طریقے سے جی ایس ٹی کے نفاذ نے عوام کے لوٹ کھسوٹ میں کوئی موقعہ فروگذاشت نہیں کیاہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ یشونت سنہا جیسے بی جے پی کے قدآور لیڈر اور سابق وزیر خزانہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے پارٹی ہائی کمان کی مخالفت کرتے ہیں، مگر مودی کانگریس کو ایسے نشانہ بنارہے تھے جیسے اُن کی پارٹی کے وزراء اور لیڈرس بے داغ ہوں۔